عاشوراء کے وظائف

ذکر رکعتیں صلٰوۃ عاشوراء مع ادعیہ

دسویں تاریخ محرم کو جب آفتاب بلند ہو دو رکعت نماز نفل صلٰوۃ عاشوراء کی نیت سے پڑھے
پہلی رکعت میں بعد سوره فاتحہ ‘آیتہ الکر سی اور
دسری رکعت میں لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ آخر سورہ حشر تک
اگر یاد نہ ہو تو سُورَة الإخْلَاص تین بار، بعد سلام درود پڑھکر اس دعا کو پڑھے

جواہر خمسہ میں حضرت حاجی حمید عرف شیخ محمد غوث گوالیاری شطاری رحمتہ اللہ علیہ نے بروایت بزرگان سلسلہ مشائخ شطاریہ ذکر کیا کہ چھ رکعتیں نفل ایک سلام کے ساتھ پڑھے اور ہر رکعت میں سُورَة الشَمْس اور وَالضُّحَى اور سورہ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ اور سُورَة الإخْلَاص اور سورة الفلق اور سورة الناس ایک ایک بار بعد فارغ ہونے اس نماز کے، سجدے میں جائے اور سات بار سورہ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ پڑھکر دست بدعا ہو اور یہ دعا پڑھے

بعد اس دعا کے ستر بار پڑھے

حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ

 

جو کوئی اس کو روز عاشوراء پڑھے گا اللہ تعالٰی اسکی مغفرت فرمائے گا اور جو روز عاشوراء بروایت لطائف اشرفی ایک بار اور بروایت جواہر خمسہ سات بار اس دعا کو پڑھے گا اس تمام سال انشاءاللہ تعالٰی صدمہ موت سے محفوظ رہے گا اور اگر اس کی موت ہی مقدر ہوگی تو اس دعا کے پڑھنے کی توفیق نہ ہوگی اور چاہیئے کہ بروز عاشوراء اپنے اہل و عیال سب کو جمع کرکے اس دعا کو پڑھوائے یہ دعا امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے دعا یہ ہے

حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی محبوب یزدانی سے مولانا نظام الدین یمنی نے فرمایا کہ بروز عاشوراء محرم معمول مشائخ کرام چار رکعت صلٰوۃ الخصمان کی نیت سے پڑھے اس کے پڑھنے سے دشمنوں کے شر سے محفوظ رہے گا اور تمام دشمن اس خوش رہینگے
پہلی رکعت میں بعد سُورَة الفَاتَحة آيةُ الكُرسي تین بار اور سورہ اخلاص پچیس بار
دوسری رکعت میں سُورَة أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ثر ایک بار سُورَة الإخْلَاص گیارہ بار
اور تیسری رکعت میں سورة الكافرون تین بار اور سورة الإخلاص گیارہ بار
اور چوتھی رکعت میں سورہ اخلاص گیارہ بار
اور بعد سلام درود شریف پڑھکر چاروں قل تین تین مرتبہ پڑھے
اس کے بعد سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ للهِ تین مرتبہ
اور أللهُمَّ اغْفِرْلِىْ وَلِوَ الِدَىَّ كَمَا رَبَّيَانِيْ صَغِيْرًا تین مرتبہ
اور اَللّهُمَّ اغْفِرْلِىْ وَلِلْمُؤمِنٍيْنَ وَالْمُوْمِنَاتِ
اس کے بعد چار سو مرتبہ اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبّىْ مِنْ كُلّ ذَنْبٍ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ

حضرت غوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ نے فرمایا کہ فقیر مشرق سے مغرب تک مشائخ روئے زمین سے ملا سب کا یہی معمول تھا جو کہ اعمال عاشوراء میں لکھا گیا ہے اور تمام اولیاء روئے زمین کا یہ بھی معمول تھا کہ دس یا تین روز عاشوراء میں ملحوظ رکھنا چاہیئے
اول غسل
دوسرے نماز عاشوراء
تیسرے روزہ
چوتھے آنکھ میں سرمہ لگانا
پانچویں یتیم کے شر پر دست شفقت پھیرنا
چھٹے دو مسلمانوں میں صلح کرا دینا
ساتویں کھانا زیادہ پکوانا اور بچوں کو کھلانا
آٹھویں ملاقات حاکم کی کرنا
نویں عیادت مریض کی کرنا
دسویں دعائے مغفرت والدین و جمیع مومنین
اور بعد دعاء عاشوراء جو بروایت أمام زین العابدین واسطے درازی عمر پڑھی جاتی ہے اس کے بعد دس مرتبہ درود پڑھے اور ایک بار یہ دعا پڑھے

اس کے بعد دو رکعت نفل پڑھے بعد سورہ فاتحہ دونوں رکعتوں میں قُلْ هُوَ اللَّـهُ دس مرتبہ پڑھے بعد سلام کے آیت الکرسی اور دورو نو نو مرتبہ پڑھے اور ثواب اس کا امام حسین رضی اللہ عنہ کی روح کو بخشدے اور ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ خود امام حسین رضی اللہ عنہ نے دسویں محرم کو ہمیشہ اس نماز کو ادا کیا اس ترتیب سے کہ پہلی رکعت میں بعد سورہ فاتحہ سورہ الم نشرح ایک بار اور سورہ اذاجا پچیس بار بعد سلام کے درود اس کے بعد یہ دعا پھر اپنی حاجت اور مراد کے لیئے دعا مانگے دعا یہ ہے

Scroll to Top